بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے اور خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے اثرات صرف اسی خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
صدر شی جن پنگ نے یہ بات جمہوریہ موزمبیق کے صدر ڈینیل فرانسسکو چاپو کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ اور مربوط عالمی کوششوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ عالمی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ملاقات میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ مشرق وسطیٰ کی بدامنی کے اثرات افریقی ممالک تک پہنچ رہے ہیں۔ معاشی بحران، سیکیورٹی خدشات اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال افریقہ کے لیے براہ راست چیلنجز بن کر ابھری ہیں، جس کے پیش نظر بین الاقوامی تعاون کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا اور کثیر الجہتی روابط کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ بات چیت کا محور ابھرتی ہوئی معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنا تھا۔
چین اور موزمبیق کے سربراہان نے دوطرفہ تعلقات کو معاشی، تزویراتی اور ترقیاتی شعبوں میں وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ صدر شی جن پنگ نے واضح کیا کہ چین مشکل وقت میں افریقی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے اور بیجنگ کے لیے افریقہ کے ساتھ شراکت داری کو مستحکم کرنا ایک کلیدی ترجیح ہے۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے عالمی سفارتی ایجنڈے اور معاشی منظرنامے کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث عالمی طاقتوں کی جانب سے اس بحران کے حل کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
