-Advertisement-

جیو پولیٹیکل کشیدگی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 500 سے زائد پوائنٹس کی گراوٹ

تازہ ترین

پہلگام واقعہ: ایک سال گزرنے کے باوجود بھارت ثبوت پیش کرنے میں ناکام، عطا تارڑ کا بیان

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پہلگام واقعہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا...
-Advertisement-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کے باعث اتار چڑھاؤ کا رجحان دیکھا گیا۔ بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے سائے میں مارکیٹ کسی واضح سمت کا تعین کرنے میں ناکام رہی۔

کے ایس ای 100 انڈیکس کا آغاز دباؤ کے ساتھ ہوا جس کے بعد کاروبار کے دوران شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ صبح کے وقت انڈیکس میں 135.08 پوائنٹس یعنی 0.08 فیصد کی تنزلی ہوئی تاہم 11 بج کر 34 منٹ پر مارکیٹ نے کچھ سنبھلتے ہوئے 119.24 پوائنٹس یعنی 0.07 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔

مارکیٹ میں اس غیر یقینی کی بنیادی وجہ اسلام آباد میں متوقع امریکا ایران امن مذاکرات کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اختیار کرنے کے باعث تجارتی حجم میں بھی کمی دیکھی گئی۔

اگرچہ سعودی عرب کی جانب سے ایک ارب ڈالر کے ڈیپازٹ نے مارکیٹ کو کچھ سہارا فراہم کیا تاہم آٹو موبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں منافع خوری کے رجحان نے انڈیکس پر دباؤ برقرار رکھا۔

دن کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 173,452.66 اور نچلی ترین سطح 171,841.04 پوائنٹس رہی۔ اس دوران 18 کروڑ 49 لاکھ حصص کا کاروبار ہوا جن کی مالیت 15 ارب 23 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ مرتب کیے جانے تک دوپہر 12 بج کر 50 منٹ پر انڈیکس 506.58 پوائنٹس یعنی 0.34 فیصد کی کمی کے ساتھ 172,649.21 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -