ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے بعد تہران سمیت ایران کے بڑے شہروں کی دیواریں مزاحمت اور قومی عزم کی عکاس پینٹنگز اور دیوار گیر تصاویر سے سج گئی ہیں۔ یہ فن پارے نہ صرف ملکی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ انقلاب 1979 کے بعد سے ایرانی نظریے اور اجتماعی یادداشت کو محفوظ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔
دارالحکومت تہران میں حال ہی میں بنائی گئی ایک دیوار گیر تصویر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو تابوتوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جس کے گرد ایرانی پرچم بردار کشتیاں اور ہیلی کاپٹر موجود ہیں۔ یہ منظر آبنائے ہرمز میں ایرانی مسلح افواج کی جانب سے جاری ناکہ بندی اور سمندری بالادستی کے دعوے کی ترجمانی کرتا ہے۔
ایک اور تصویر میں ایک شخص کو دونوں ہاتھوں میں ایرانی پرچم تھامے ہوئے دل کی شکل بناتے دکھایا گیا ہے، جس کے پس منظر میں میزائل داغے جا رہے ہیں۔ ایک دیوار پر ایرانی پرچم کے وسط میں موجود ٹیولپ کے نشان میں میزائل کو نمایاں کیا گیا ہے، جبکہ ایک نوجوان خاتون کو اس بینر کے ساتھ دکھایا گیا جس پر درج ہے کہ ہم سب انقلاب کے لیے آئے ہیں، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کی حمایت کا اعادہ ہے۔
دیواروں پر ایرانی قیادت کے تسلسل کو بھی دکھایا گیا ہے۔ ان تصاویر کا آغاز اسلامی جمہوریہ کے بانی روح اللہ خمینی سے ہوتا ہے، جن کے بعد علی خامنہ ای کی تصویر موجود ہے جو 28 فروری کو جنگ کے ابتدائی امریکی و اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس تسلسل کا اختتام ان کے صاحبزادے اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر پر ہوتا ہے۔
دیگر فن پاروں میں ایرانی ڈرونز کو اسرائیل کے قومی نشان ستارہ داؤد کو تباہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تہران کے مرکزی آزادی اسکوائر کے قریب بھی ایسی پینٹنگز موجود ہیں جن میں مظاہرین کو امریکہ مخالف نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
سابقہ امریکی سفارت خانے، جسے اب جاسوسی کا اڈہ کہا جاتا ہے، کے ارد گرد موجود دیواریں طویل عرصے سے امریکہ مخالف فن پاروں کا مرکز ہیں۔ ان میں سے ایک پینٹنگ میں مجسمہ آزادی کو شکستہ حال اور تباہی کے مناظر کے درمیان دکھایا گیا ہے، جبکہ ایک اور تصویر میں امریکی پرچم کے ستاروں کی جگہ انسانی کھوپڑیوں کو دکھایا گیا ہے۔
