-Advertisement-

ایران پر امریکی ناکہ بندی: غیر واضح مقاصد اور پیچیدہ صورتحال

تازہ ترین

ہنگری کا ویٹو ختم، یوکرین کے لیے 106 ارب ڈالر کے یورپی یونین قرض کی راہ ہموار

یورپی یونین نے ہنگری کی جانب سے طویل عرصے سے عائد ویٹو ختم کیے جانے کے بعد یوکرین کے...
-Advertisement-

امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے تک اس کے بحری جہازوں کے راستے روکنے کا عزم ظاہر کیا ہے تاہم تجزیہ کاروں اور جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعداد و شمار اس ناکہ بندی کی کامیابی پر سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں۔ مبہم مقاصد اور جہازوں کی خفیہ سرگرمیوں کے باعث امریکی آپریشن کی افادیت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔

لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کی تجزیہ کار برِجٹ ڈیاکن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے متضاد معلومات اور ڈیٹا کے اجرا میں تاخیر کے باعث ناکہ بندی کے دائرہ کار اور پیرامیٹرز پر کافی الجھن پائی جاتی ہے۔

اس بحری تعطل کا پس منظر یہ ہے کہ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ بعد ازاں جنگ بندی کے دوران امن مذاکرات کی ناکامی پر تیرہ اپریل کو امریکی افواج نے جوابی ناکہ بندی شروع کی۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین کے مطابق اس ناکہ بندی کا اطلاق خلیج عمان کے دہانے پر کیا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ پابندی ایران آنے اور جانے والے تمام ممالک کے جہازوں پر لاگو ہوگی۔ بعد ازاں امریکی بحریہ نے اعلان کیا کہ وہ مقام سے قطع نظر تیل، اسلحہ اور جوہری مواد لے جانے والے مشکوک جہازوں کو بھی روکے گی۔

ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کو بتایا کہ اب کامیابی کا معیار یہ نہیں ہے کہ کتنے جہازوں نے ناکہ بندی توڑی، بلکہ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ایران کی تجارت کو کتنا نقصان پہنچا۔ تاہم سیٹلائٹ تصاویر اور ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ درجنوں ایسے جہاز ناکہ بندی کی لکیر پار کر چکے ہیں جو پابندیوں کی زد میں ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سترہ اپریل تک یہ دعویٰ کرتی رہی کہ کوئی بھی جہاز ناکہ بندی سے بچ کر نہیں نکلا، لیکن اٹھارہ اپریل کے بعد سے اعداد و شمار میں صرف ان اٹھائیس جہازوں کی تعداد بتائی جا رہی ہے جنہیں واپس موڑا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے شکار جہاز اپنی منزل عراق یا دیگر غیر ایرانی مقامات ظاہر کر کے ناکہ بندی کو چکمہ دے رہے ہیں۔ خلیج میں داخل ہونے کے بعد جہاز اپنے ٹرانسپونڈرز بند کر کے یا غلط لوکیشن دکھا کر ایرانی تیل کی منتقلی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی چھوٹ کے ضوابط بھی واضح نہیں ہیں، جس کی وجہ سے خوراک لے جانے والے کم از کم دو جہاز بلا روک ٹوک ایرانی بندرگاہوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -