-Advertisement-

کراچی: کانگو وائرس سے رواں سال کی پہلی ہلاکت، 17 سالہ نوجوان دم توڑ گیا

تازہ ترین

لندن: ایران مخالف مظاہرے کے دوران چاقو کے وار سے متعدد افراد زخمی

لندن میں ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے قریب ایران مخالف جنگی مظاہرے کے دوران چاقو زنی کا افسوسناک واقعہ پیش...
-Advertisement-

کونگو وائرس کے باعث سترہ سالہ نوجوان دم توڑ گیا، رواں برس صوبہ سندھ میں اس مہلک وائرس سے ہونے والی یہ پہلی ہلاکت ہے۔

سندھ انفیکشس ڈیزیز ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالوحید راجپوت نے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مریض کو انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا اور اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریض کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیا گیا جہاں سخت حفاظتی پروٹوکول کے تحت علاج جاری تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔

جناح ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وقاص کے مطابق متوفی نوجوان پیر کے روز تیز بخار کی شکایت کے ساتھ ایمرجنسی میں لایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مویشی فارم پر کام کرنے والے اس نوجوان میں کریمین کونگو ہیمرجک فیور کی علامات ظاہر ہونے پر اسے فوری طور پر آئسولیشن یونٹ منتقل کر دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر وقاص کے مطابق مریض کے خون کے نمونے ٹیسٹ کے لیے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال بھجوائے گئے تھے، جس کی رپورٹ میں کونگو وائرس کی تصدیق ہوئی۔ تشخیص کے بعد مریض کو مزید علاج کے لیے منگل کے روز انفیکشس ڈیزیز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

سندھ میں اس سے قبل کونگو وائرس سے آخری ہلاکت سن دو ہزار پچیس میں ابراہیم حیدری کے ایک ماہی گیر کی ہوئی تھی، جس کے بعد رواں برس صوبے میں اس وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو ہو گئی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کونگو وائرس ایک ایسی بیماری ہے جو چیچڑیوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے اور شدید بخار کا باعث بنتی ہے۔ یہ وائرس بنیادی طور پر متاثرہ چیچڑیوں کے کاٹنے یا بیمار جانوروں کے خون اور دیگر اعضاء کے ساتھ براہ راست رابطے سے پھیلتا ہے۔

اس کے علاوہ متاثرہ مریض کے جسمانی رطوبتوں کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقلی کا خدشہ بھی رہتا ہے، جس کی وجہ سے طبی مراکز میں یہ وائرس انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔

کونگو وائرس کی پہلی بار نشاندہی انیس سو چوالیس میں کریمیا اور انیس سو چھپن میں کانگو کے خطے میں ہوئی تھی۔ یہ بیماری اب افریقہ، ایشیا، مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ کے کئی حصوں میں مقامی وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان، افغانستان، ترکی اور روس میں اس وائرس کے کیسز باقاعدگی سے رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -