واشنگٹن میں ایک امریکی ڈسٹرکٹ جج فریڈ بیری نے ہیام الجمال اور ان کے پانچ بچوں کو دس ماہ سے زائد عرصے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں کسی خاندان کی یہ طویل ترین حراست تھی۔
ہیام الجمال اور ان کے پانچ بچے جن کی عمریں پانچ سے اٹھارہ سال کے درمیان ہیں، گزشتہ برس کولوراڈو کے شہر بولڈر میں ہونے والے فائر بم حملے کے بعد جون میں وفاقی تحویل میں لیے گئے تھے۔ اس حملے میں ایک بیاسی سالہ خاتون ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس واقعے کے مرکزی ملزم محمد صبری سلیمان، جو ہیام الجمال کے سابق شوہر ہیں، کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
خاندان کے وکیل ایرک لی نے تصدیق کی ہے کہ الجمال خاندان اب آزاد ہے۔ رہائی کے بعد ہیام الجمال اور ان کی اٹھارہ سالہ بیٹی حبیبہ سلیمان کو ٹخنوں پر الیکٹرانک مانیٹر پہننے کی پابندی کا سامنا رہے گا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے جج کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک کارکن جج کا اقدام قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایک دہشت گرد کا خاندان امریکی سڑکوں پر آزاد گھومے گا۔ دوسری جانب وکیل کا کہنا ہے کہ الجمال خاندان کو ملزم کے منصوبوں کے بارے میں کوئی پیشگی علم نہیں تھا اور ان کی حراست غیر قانونی تھی۔
ہیام الجمال نے اپنے سابق شوہر کی گرفتاری کے بعد ان سے طلاق لے لی تھی اور وہ اس حملے کی مذمت کر چکی ہیں۔ قانونی ٹیم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حراست کے دوران خاندان کی صحت بری طرح متاثر ہوئی اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ وکیل کے مطابق ہیام الجمال کو دل کے گرد پانی جمع ہونے کی شکایت پر ہسپتال منتقل کرنا پڑا جبکہ ان کے پانچوں بچے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
امریکی حکام نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاندان کو تمام ضروری طبی سہولیات اور قانونی عمل تک رسائی دی گئی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے امیگریشن مراکز میں قیدیوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ ان کے اقدامات غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے اور ملکی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
