-Advertisement-

ناروے حکومت کا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ

تازہ ترین

امریکا ایران کشیدگی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 2 ہزار پوائنٹس کی بڑی گراوٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز شدید مندی کا رجحان رہا اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کے...
-Advertisement-

ناروے کی حکومت نے 16 برس سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کرے گی جس کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ سوشل میڈیا صارفین کی عمر کی تصدیق کو یقینی بنائیں۔

ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر سٹور کا اس اقدام کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ قانون سازی اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ بچوں کو ان کا بچپن واپس مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بچے اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں کو حقیقی معنوں میں انجوائے کر سکیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ کھیل کود، دوستی اور روزمرہ کی زندگی کو الگورتھمز اور اسکرینوں کے قبضے میں نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچوں کی ڈیجیٹل زندگیوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔

ناروے کی اقلیتی لیبر حکومت کے مطابق اس مجوزہ بل کو 2026 کے اختتام تک پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -