-Advertisement-

وائٹ ہاؤس کا چین پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی چوری کرنے کا الزام

تازہ ترین

ایران پر امریکی ناکہ بندی عالمی سطح پر پھیل رہی ہے: امریکی وزیر دفاع

واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی کا...
-Advertisement-

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو چین پر مصنوعی ذہانت کے امریکی لیبارٹریوں کا انٹیلیکچوئل پراپرٹی بڑے پیمانے پر چرانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی اور چینی رہنماؤں کی آئندہ ماہ ہونے والی سربراہی ملاقات سے قبل دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے دفتر برائے سائنس و ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر مائیکل کراٹسیس کی جانب سے جاری کردہ میمو میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی عناصر، جن میں سر فہرست چین ہے، امریکی آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹمز کو چرانے کی منظم مہم چلا رہے ہیں۔

میمو کے مطابق ان مربوط مہمات میں دسیوں ہزار پراکسی اکاؤنٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ نگرانی سے بچا جا سکے اور جیل بریکنگ جیسی تکنیکوں کے ذریعے امریکی ماڈلز کی ملکیتی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ بیجنگ انٹیلیکچوئل پراپرٹی کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے جمعہ کو پریس بریفنگ میں امریکہ پر زور دیا کہ وہ تعصبات ترک کرے اور دونوں ممالک کے مابین سائنسی اور تکنیکی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرے۔

یہ صورتحال ٹیکنالوجی کے میدان میں جاری طویل جنگ کو مزید ہوا دے سکتی ہے، جس میں گزشتہ اکتوبر کے بعد کچھ بہتری دیکھی گئی تھی۔ اس تنازع نے اینوڈیا کی طاقتور اے آئی چپس کی چین کو برآمدات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری میں ان چپس کی فروخت کی مشروط اجازت دی تھی، تاہم وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ تاحال کوئی شپمنٹ نہیں بھیجی گئی۔

میمو میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت اپنی اے آئی کمپنیوں کو ان غیر قانونی سرگرمیوں سے آگاہ کرے گی اور غیر ملکی عناصر کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ اے آئی کے شعبے میں ڈسٹلیشن کا عمل بڑے ماڈلز کے آؤٹ پٹ کو استعمال کرتے ہوئے چھوٹے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہوتا ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجی کی تیاری کی لاگت کو کم کیا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -