صدر آصف علی زرداری نے جوہری تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دیتی ہیں، حفاظتی اقدامات کو مضبوط بناتی ہیں اور چرنوبل جیسے حادثات کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
چرنوبل سانحے کی یاد میں منائے جانے والے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ چرنوبل حادثے کو چالیس برس بیت چکے ہیں، مگر یہ واقعہ آج بھی جوہری خطرات اور ذمہ داریوں کے حوالے سے عالمی سوچ کو تشکیل دے رہا ہے۔ انیس سو چھیاسی میں چرنوبل پلانٹ کے دھماکے سے خارج ہونے والی تابکاری نے بیلاروس، یوکرین اور روسی فیڈریشن کے لاکھوں افراد کو متاثر کیا، جس کے اثرات حادثے کے طویل عرصے بعد بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ تابکاری کے اثرات کسی ایک تنصیب یا نسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ خطوں میں پھیل کر انسانی صحت، ماحول اور معاشی زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر شراکت دار تنظیموں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے کی جانے والی کوششیں اس چیلنج کی سنگینی اور مستقل نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری تحفظ کو محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے لیے مستقل نظم و ضبط اور سخت نگرانی درکار ہے۔ جوہری تنصیبات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت یا دشمنانہ کارروائی کے نتائج فوری ہدف سے کہیں زیادہ وسیع اور طویل مدتی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں، جس کا خمیازہ ان لوگوں کو بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے جن کا اس واقعے سے کوئی براہ راست تعلق نہ ہو۔
صدر نے کہا کہ جوہری حادثات کے نتیجے میں زرعی زمینیں بنجر ہو سکتی ہیں، خوراک اور پانی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چرنوبل کا تجربہ ایک سخت یاد دہانی ہے کہ اس شعبے میں غلطی کی گنجائش انتہائی کم ہے اور ناکامی کی قیمت نسلوں کو ادا کرنی پڑتی ہے۔
