-Advertisement-

فلسطینی صدر کے حامیوں کی مقامی انتخابات میں کامیابی، غزہ کی کچھ نشستیں بھی حاصل کر لیں

تازہ ترین

یوکرین جنگ کا خاتمہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا پیوٹن اور زیلنسکی سے رابطوں کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے مابین جاری جنگ کو ختم کرنے...
-Advertisement-

قاہرہ اور ویسٹ بینک سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامیوں نے اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ان انتخابات کی اہمیت اس لیے دوچند ہے کہ تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بار غزہ کی پٹی کے ایک شہر میں بھی ووٹ ڈالے گئے، جس کا انتظام حماس کے پاس ہے۔

حالیہ انتخابات 2006 کے بعد غزہ میں منعقد ہونے والے پہلے انتخابات ہیں، جبکہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ فلسطینی علاقوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہوا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق دیر البلح شہر کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا اٹوٹ انگ ہے۔

فلسطینی وزیراعظم محمد مصطفیٰ نے نتائج کے اعلان کے موقع پر کہا کہ یہ انتخابات انتہائی حساس وقت اور پیچیدہ حالات میں منعقد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اسے جمہوری عمل کو مضبوط بنانے اور قومی اتحاد کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

انتخابی نتائج کے مطابق غزہ کے دیر البلح شہر میں حماس کے حامی سمجھے جانے والے امیدواروں کی فہرست نے 15 میں سے صرف دو نشستیں حاصل کیں۔ دوسری جانب صدر محمود عباس کی جماعت فتح اور مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ فہرست نے چھ نشستیں اپنے نام کیں۔ باقی نشستیں دیگر مقامی گروپوں کے حصے میں آئیں۔ ویسٹ بینک میں فتح پارٹی نے کلین سویپ کیا ہے جہاں اکثر نشستوں پر ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین رامی الحمداللہ کے مطابق غزہ میں ووٹ ڈالنے کی شرح صرف 23 فیصد رہی، جبکہ ویسٹ بینک میں یہ تناسب 56 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی سکیورٹی پابندیوں کے باعث کچھ پولنگ سامان کی ترسیل میں مشکلات پیش آئیں جن پر قابو پا لیا گیا تھا۔

فتح کے ترجمان عبدالفتح دولہ نے کہا کہ ووٹرز کی شرکت حوصلہ افزا ہے، جبکہ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ان انتخابات کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان نتائج کا قومی سطح کے معاملات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ سیاسی تجزیہ کار ریہم عودہ کا کہنا ہے کہ ووٹرز کا جھکاؤ فتح کے حامی امیدواروں کی جانب اس بات کا اشارہ ہے کہ عوام بلدیاتی سطح پر بین الاقوامی تعاون اور سیاسی تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -