لاہور ہائی کورٹ نے خاتون ڈاکٹر کو نازیبا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے کے ملزم اسرار مجید کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس وحید خان نے کیس کی سماعت کی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ملزم ایک نجی ہسپتال میں ڈرائیور کے طور پر ملازمت کرتا تھا۔ ملازمت سے برطرفی کے بعد اس نے ایک سیکیورٹی گارڈ کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی اور ڈاکٹر کے گھر کے واش روم میں خفیہ کیمرے نصب کیے۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نے خفیہ کیمروں کی مدد سے خاتون ڈاکٹر کی نازیبا ویڈیو بنائی اور اس کے عوض 25 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر کے بیٹے کی جانب سے شکایت درج کرائے جانے کے بعد ایف آئی اے نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔
عدالت میں ملزم کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کا موکل گزشتہ دس ماہ سے جیل میں قید ہے اور مقدمے کے حقائق کا فیصلہ ٹرائل کے دوران ہونا چاہیے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم پر عائد الزامات کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ ضمانت کا حقدار نہیں ہے۔
