-Advertisement-

پنجاب: محتسب برائے انسدادِ ہراسانی کا عہدہ خالی، خواتین کے ہزاروں مقدمات التواء کا شکار

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق ‘شیک ہینڈز-II’ کا تربیلا میں آغاز

پاکستان اور سری لنکا کے مابین انسداد دہشت گردی کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ تربیلا...
-Advertisement-

پنجاب میں خواتین کے ہراسانی اور وراثت کے ہزاروں مقدمات صوبائی محتسب برائے خواتین کا عہدہ نو ماہ سے خالی ہونے کے باعث التوا کا شکار ہو چکے ہیں۔ مئی 2025 میں سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں کی گئی آخری تقرری کے بعد سے یہ دفتر تاحال خالی پڑا ہے، جس سے شکایات کا انبار لگ گیا ہے۔

خواتین کے لیے صوبائی محتسب کا دفتر 2013 میں قائم کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر میرا پھلبس، فرخندہ وسیم افضل، رخسانہ گیلانی اور نبیلہ حاکم علی خان اس عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔ مئی 2025 سے یہ نشست خالی ہے جس کی وجہ سے ہراسانی کے بڑھتے ہوئے کیسز حل نہیں ہو پا رہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران 6654 مقدمات درج ہوئے۔ سال 2021 میں 1358، 2022 میں 604، 2023 میں 1812 اور 2024 میں 1880 کیسز موصول ہوئے۔ 2025 سے مارچ 2026 تک 3000 سے زائد کیسز دائر کیے گئے، جن میں سے 1000 سے زائد ابھی تک زیر التوا ہیں۔

تعلیم، صحت، پولیس، محکمہ بہبود آبادی، اطلاعات، اقلیتی امور، ٹرانسپورٹ اور سوشل ویلفیئر کے محکموں سے ہراسانی کی سب سے زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں۔ محکمہ تعلیم کی ایک افسر نے بتایا کہ انہیں کام کی جگہ پر مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور ایک سال گزرنے کے باوجود ان کی شکایت پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

وراثت کے حقوق کے حوالے سے پنجاب انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2021 کے تحت دس ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں پراپرٹی رائٹس سیل قائم کیے گئے۔ 2021 سے مارچ 2026 کے درمیان وراثت کے 10 ہزار سے زائد کیسز دائر کیے گئے جن میں سے 4 ہزار تاحال حل طلب ہیں۔ لاہور، ملتان، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔

متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ کیسز کی سماعتوں میں طویل وقفے اور فریقین کی عدم موجودگی کے باعث انصاف کی فراہمی ناممکن ہو چکی ہے۔ عائشہ نامی خاتون نے بتایا کہ انہیں وراثتی جائیداد کے دعوے سے دستبردار ہونے کے لیے بھائیوں کی جانب سے پولیس کے ذریعے دھمکایا جا رہا ہے۔

قانونی ماہر عبداللہ ملک کے مطابق محتسب کی عدم موجودگی نے نظام کو مفلوج کر دیا ہے، جبکہ ڈاکٹر نجمہ افضل خان کی حالیہ تقرری کو سیاسی اثر و رسوخ اور قانونی طریقہ کار کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قوانین میں خامیاں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ عدم تعاون بھی تاخیر کی بڑی وجوہات ہیں۔

سیکریٹری ویمن ڈویلپمنٹ اور محتسب کی ترجمان عظمیٰ رباب نے بتایا کہ پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کے تحت 1043 ہیلپ لائن فعال ہے اور متعلقہ محکموں کو انکوائری کمیٹیاں بنانے کا پابند کیا گیا ہے۔

سابق محتسب نبیلہ حاکم علی خان نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں عوامی شعور بیدار ہونے کے باوجود کیسز کا بیک لاگ نہیں تھا کیونکہ زیادہ تر معاملات باہمی رضامندی سے نمٹا دیے جاتے تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -