-Advertisement-

امریکی ناکہ بندی: ایرانی تیل بردار جہازوں کی واپسی، آبنائے ہرمز میں ٹریفک محدود

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق ‘شیک ہینڈز-II’ کا تربیلا میں آغاز

پاکستان اور سری لنکا کے مابین انسداد دہشت گردی کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ تربیلا...
-Advertisement-

دبئی (رائٹرز) – آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں ملاح سمندر میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کیپلر اور سیٹلائٹ تجزیہ کار کمپنی سِن میکس کے اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل اس راستے سے روزانہ 125 سے 140 جہاز گزرتے تھے، تاہم گزشتہ ایک روز کے دوران صرف سات جہازوں نے یہ سفر کیا، جن میں سے کوئی بھی عالمی منڈی کے لیے تیل لے کر نہیں جا رہا تھا۔

امریکی فوج کی جانب سے 13 اپریل کو ایران سے منسلک جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک 37 بحری جہازوں کو واپس موڑا جا چکا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ چند دنوں کے دوران ایرانی تیل سے لدے چھ ٹینکرز کو امریکی ناکہ بندی کے باعث واپس ایران لوٹنے پر مجبور کیا گیا۔ ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام کے مطابق، ان جہازوں میں تقریباً ایک کروڑ پانچ لاکھ بیرل تیل موجود تھا۔

آبنائے ہرمز دنیا بھر میں روزانہ استعمال ہونے والے تیل اور ایل این جی کی 20 فیصد ترسیل کا اہم ذریعہ ہے۔ جہاز رانی کے امور کے ماہر ادارے کلارکسنز نے پیر کو جاری کردہ ایک نوٹ میں کہا ہے کہ ایران اپنی شرائط کے مطابق ٹریفک نہ ہونے پر جہازوں کو حراست میں لے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی فوج اپنی ناکہ بندی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔

اگرچہ امریکی فورسز نے خلیج عمان میں کئی جہازوں کو واپس جانے کا حکم دیا ہے، تاہم کچھ جہازوں کو آگے بڑھنے کی اجازت بھی ملی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 24 اپریل کو دو ٹینکرز تقریباً 40 لاکھ بیرل ایرانی تیل لے کر ایشیا کی جانب روانہ ہونے میں کامیاب رہے۔ دریں اثنا، ایران کے چار خالی ٹینکرز کو ایشیا سے واپسی پر پاکستان کے ساحل کے قریب دیکھا گیا ہے۔

اس بحرانی صورتحال کے باعث سیکڑوں جہاز اور تقریباً 20 ہزار ملاح خلیج کے اندر پھنس چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنگویز نے پیر کے روز ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاح سنگین خطرات اور شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال جوں کی توں رہنے سے ماحولیاتی حادثات سمیت دیگر بڑے سانحات کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -