-Advertisement-

پیوٹن کی ایرانی عوام کی مزاحمت کی تعریف، تہران کو ہر ممکن تعاون کا یقین

تازہ ترین

وزیراعظم کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کے فروغ کے عزم کا اعادہ

یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے بین الاقوامی شراکت داری کے ایشیا پیسیفک ڈائریکٹر پیٹرس اوسٹوبس کی قیادت میں...
-Advertisement-

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیر کے روز امریکی اور اسرائیلی دباؤ کے سامنے ایران کی جانب سے اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو سراہا ہے۔ انہوں نے تہران کو یقین دلایا کہ ماسکو ایران کے مفادات کے تحفظ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

روس کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی گئی ہے۔ ماسکو نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی فضائی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ روس نے ماضی میں ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے پاس ذخیرہ کرنے کی تجویز بھی دی تھی تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے، تاہم امریکہ نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔

سینٹ پیٹرزبرگ میں صدارتی لائبریری میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران پیوٹن نے کہا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایرانی عوام کس بہادری اور استقامت سے اپنی خودمختاری کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اس مشکل دور سے جلد نکل آئے گا اور خطے میں امن قائم ہوگا۔

پیوٹن نے مزید کہا کہ روس ان تمام اقدامات کی حمایت کرے گا جو ایران اور خطے کے عوام کے مفاد میں ہوں تاکہ جلد از جلد امن کی بحالی ممکن ہو سکے۔ دریں اثنا پاکستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں۔

روسی صدر نے بتایا کہ انہیں گزشتہ ہفتے ایران کے نئے سپاہ سالار مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام موصول ہوا ہے۔ انہوں نے عباس عراقچی سے کہا کہ وہ تہران کو باور کرائیں کہ روس تہران کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو برقرار رکھنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بیس سالہ معاہدہ گزشتہ برس طے پایا تھا۔ روس ایران کے شہر بوشہر میں دو نئے ایٹمی یونٹس تعمیر کر رہا ہے، جبکہ ایران نے روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال کے لیے شاہد ڈرون فراہم کیے ہیں جن کی تیاری اب روس کے اندر ہی مقامی سطح پر کی جا رہی ہے۔

ملاقات کے دوران عباس عراقچی نے ایران کی حمایت کرنے پر روسی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سب پر ثابت ہو چکی ہے کہ ایران کے پاس روس جیسی دوست اور اتحادی قوتیں موجود ہیں جو مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑی ہیں۔

روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو چاہتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عسکری کارروائیوں کی طرف واپسی کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -