برطانوی بادشاہ چارلس سہ پہر تین بجے امریکی کانگریس سے خطاب کریں گے، جس میں وہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات اور باہمی اتحاد پر زور دیں گے۔ یہ خطاب اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ ملکہ الزبتھ دوم کے 1991 کے خطاب کے بعد یہ کسی برطانوی بادشاہ کا امریکی کانگریس سے دوسرا خطاب ہوگا۔
شاہی محل کے ذرائع کے مطابق بادشاہ کا خطاب تقریباً بیس منٹ طویل ہوگا، جس میں نیٹو، مشرق وسطیٰ اور یوکرین جیسے اہم عالمی امور کا احاطہ کیا جائے گا۔ بادشاہ اس بات پر زور دیں گے کہ دونوں ممالک مشترکہ اقدار کے تحفظ کے ذریعے عالمی سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب برطانوی حکومت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ایران کے خلاف جنگ سمیت دیگر سیاسی معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تاہم، شاہی دورے کا مقصد ان سفارتی تلخیوں سے بالاتر ہو کر دونوں ممالک کے مابین ڈھائی سو سالہ پرانے گہرے تعلقات کو اجاگر کرنا ہے۔
بادشاہ اپنے خطاب میں اس شراکت داری کو انسانی تاریخ کا عظیم ترین اتحاد قرار دیں گے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کو امید ہے کہ یہ دورہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا اپنے چار روزہ دورے کے دوران منگل کی شب ریاستی عشائیے میں بھی شرکت کریں گے۔ پیر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے ساتھ چائے پر ملاقات کے بعد، شاہی جوڑا بدھ کو نیویارک میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے متاثرین کی یادگار پر حاضری دے گا۔ دورے کا اختتام جمعرات کو ورجینیا میں ہوگا جہاں بادشاہ ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین سے ملاقات کریں گے۔
