-Advertisement-

صدر آصف علی زرداری کا چین میں سینی ہیوی انڈسٹری کے پلانٹ کا دورہ

تازہ ترین

ایرانی دفاعی حکام کی روسی اور بیلاروسی وزراء سے ملاقات، سفارتی حل پر زور

روسی وزیر دفاع آندرے بیلووسوف نے پیر کے روز کرغزستان میں ایران کے نائب وزیر دفاع رضا طلائی نیک...
-Advertisement-

صدر مملکت آصف علی زرداری نے چین کے صوبے ہونان کے شہر چانگشا میں سینی ہیوی انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سینی گروپ کے چیئرمین ٹینگ زیوگو نے صدر مملکت کو کمپنی کے جدید مینوفیکچرنگ سسٹمز، مصنوعات اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں جاری سرمایہ کاری کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ دورے کے دوران چانگشا کی وائس میئر کیان لیکسیا بھی موجود تھیں۔

ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے درمیان انجینئرنگ اور تعمیراتی مشینری کے شعبوں میں صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا تھا۔ صدر زرداری کو کمپنی کے بنیادی کاروباری شعبوں بشمول کنکریٹ مشینری، ایکسویٹرز، کرینز، پائلنگ کا سامان اور روڈ مشینری کے آپریشنز سے آگاہ کیا گیا۔

کمپنی کی جانب سے صدر مملکت کو بتایا گیا کہ سال 2024 میں ان کی آپریٹنگ آمدنی 11.27 ارب ڈالر رہی۔ اس موقع پر صدر زرداری کے ہمراہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا، صوبائی وزیر شرجیل میمن، چین میں تعینات پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی اور پاکستان میں تعینات چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ بھی موجود تھے۔

صدر مملکت نے کمپنی کی فلیگ شپ فیکٹری نمبر 18 کا دورہ کیا جو اپنی ڈیجیٹل انٹیگریٹڈ مینوفیکچرنگ اور جدید آٹومیشن کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ انہوں نے فیکٹری کے خودکار نظام اور ڈیٹا پر مبنی پیداواری عمل کا مشاہدہ کیا اور صنعتی پیداوار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے انضمام کو سراہا۔

آصف علی زرداری نے سینی گروپ کے مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کی وسعت اور تکنیکی گہرائی کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی ٹیکنالوجی، مہارتوں کی ترقی اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون پاکستان کی انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے تعمیراتی مشینری، ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ، کلین انرجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا۔

سینی گروپ کے چیئرمین ٹینگ زیوگو نے جدت، ڈیجیٹلائزیشن اور بین الاقوامی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان میں کمپنی کے جاری آپریشنز پر روشنی ڈالی اور مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور استعداد کار بڑھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -