-Advertisement-

ایران سے جوہری معاہدے تک پابندیاں برقرار رہیں گی: ڈونلڈ ٹرمپ

تازہ ترین

فیڈرل ریزرو کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ، 1992 کے بعد سب سے زیادہ اختلاف سامنے آیا

امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے بدھ کے روز شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم،...
-Advertisement-

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق واشنگٹن کے تحفظات کے ازالے تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ ایک انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے ناکہ بندی کو انتہائی مؤثر اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ براہ راست فوجی حملوں کی نسبت زیادہ دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان پابندیوں سے ایران کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اس کا مقصد تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کسی تصفیے کا خواہاں ہے تاہم جب تک کوئی تسلی بخش معاہدہ نہیں ہو جاتا ناکہ بندی ختم نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تہران کو کسی صورت جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پندرہ منٹ پر محیط اس انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کسی بھی ممکنہ فوجی منصوبے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کا بیشتر افزودہ یورینیم ممکنہ طور پر اصفہان میں زیر زمین سرنگوں میں محفوظ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں کے اثرات واضح ہوتے ہیں۔ گروسی کے مطابق جون 2025 میں تنازع شروع ہونے سے قبل ہی یورینیم کو سرنگوں میں منتقل کیے جانے کے شبہات موجود ہیں، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر میں ٹرکوں کو کنٹینرز کے ساتھ سرنگوں میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ نے زور دیا کہ جنگ بندی کا معاہدہ تب ہی ممکن ہے جب ایران سیاسی طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہو۔ دریں اثنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں ایران کو مشورہ دیا کہ وہ دانشمندی کا مظاہرہ کرے اور جلد از جلد معاہدے پر دستخط کرے۔

ایران کا موقف ہے کہ اسے پرامن شہری مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے جسے امریکہ تسلیم کرے۔ ایران کے پاس اس وقت تقریباً 440 کلوگرام ساٹھ فیصد تک افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے، جسے مزید افزودہ کر کے کئی جوہری ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -