-Advertisement-

ایران کے ساتھ تنازعہ پر اب تک 25 ارب ڈالر خرچ، امریکی وزیر دفاع سے کانگریس میں بازپرس

تازہ ترین

فیڈرل ریزرو کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ، 1992 کے بعد سب سے زیادہ اختلاف سامنے آیا

امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے بدھ کے روز شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم،...
-Advertisement-

ایران کے ساتھ جاری تنازعہ اب تک امریکی خزانے کو پچیس ارب ڈالر کا نقصان پہنچا چکا ہے۔ یہ انکشاف قائم مقام کمپٹرولر جولز ہرسٹ نے بدھ کے روز ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو پیشی کے دوران کیا۔

کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی موجود تھے۔ اس اجلاس کا مرکزی مقصد پینٹاگون کی جانب سے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے بجٹ کے مطالبے پر غور کرنا تھا۔ گزشتہ جون کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر دفاع ہیگستھ نے کانگریس کے سامنے عوامی سطح پر گواہی دی ہے۔

اجلاس کے دوران ڈیموکریٹک ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی پر کڑی تنقید کی اور مذاکرات کے تعطل پر سوالات اٹھائے۔ کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹک رکن ایڈم اسمتھ نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول چھوڑنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ ایڈم اسمتھ کا کہنا تھا کہ خواہشات کا اظہار حکمت عملی نہیں ہے اور اب ہمیں ٹھوس اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

وزیر دفاع ہیگستھ نے اپنے افتتاحی خطاب میں ایران سے متعلق سوالات کے جواب دینے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم انہوں نے کانگریس کے کچھ ارکان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا چیلنج ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکنز کے مایوس کن بیانات ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عراق اور افغانستان کی جنگیں طویل عرصے تک جاری رہی تھیں، جبکہ ایران کے خلاف یہ تنازعہ ابھی صرف دو ماہ پرانا ہے جو امریکی عوام کی بقا کی جنگ ہے۔ یاد رہے کہ جنگ کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے اس کے چار سے چھ ہفتوں میں ختم ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن رکن مائیک راجرز نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر گولہ بارود کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور انہیں فوری طور پر بحال کرنے کی صلاحیت ناکافی ہے۔

وزیر دفاع ہیگستھ نے بتایا کہ محکمہ دفاع نے 14 اہم ہتھیاروں اور گولہ بارود کی نشاندہی کی ہے جن کی پیداوار بڑھانے کے لیے صنعتی شعبے کو متحرک کیا جا رہا ہے۔ ان ہتھیاروں میں پیٹریاٹ اور تھاڈ انٹرسیپٹرز کے علاوہ ایس ایم تھری، ایس ایم سکس، ایم ریم، جیسم اور پی آر ایس ایم میزائل سسٹمز شامل ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -