ٹوکیو میں موسم بہار کی نوید سنانے والا صدیوں قدیم ہینوڈے سائی تہوار بدھ کے روز جوش و خروش سے منایا گیا جس میں سینکڑوں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ اس تہوار کا آغاز شنٹوا پجاریوں کی قیادت میں ایک جلوس سے ہوا جو پہاڑ کی چوٹی پر واقع مقدس مزار تک پہنچا۔
ہینوڈے سائی جسے سن رائز فیسٹیول بھی کہا جاتا ہے، کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا ان درویشوں نے کی تھی جو روحانی بیداری کی تلاش میں کوہ مٹاکے پر چڑھتے تھے۔ یہ تہوار ہر سال موسم بہار میں ٹوکیو سے پچپن کلومیٹر دور واقع اس پہاڑی علاقے میں جاپان بھر سے عقیدت مندوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔
دو روز پر محیط اس سالانہ رسم میں مزار کے دیوتا کو سفید ریشم میں لپیٹ کر عوامی نظروں سے اوجھل رکھا جاتا ہے اور اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے ایک عارضی قیام گاہ تک لایا جاتا ہے، جس کے بعد اسے دوبارہ پروقار انداز میں واپس چوٹی پر لے جایا جاتا ہے۔ مزار کے حکام کے مطابق اس رسم میں شرکت کرنے والوں کو دیوتا کی برکت حاصل ہوتی ہے جو گھرانوں کی حفاظت اور بیماریوں سے نجات کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔
مزار کی ویب سائٹ کے مطابق قرون وسطیٰ سے جاری یہ رسم موسم بہار کی آمد کی علامت بھی ہے۔ منگل کی شام شروع ہونے والا یہ خاموش جلوس پہاڑی گاؤں سے گزرتا ہوا اپنی منزل تک پہنچا۔ لالٹینوں کی روشنی میں پجاریوں نے دیوتا کو اس مقام پر پہنچایا جہاں مانا جاتا ہے کہ وہ آسمان سے اترا تھا۔
بدھ کی صبح شنٹوا پجاریوں کے ساتھ روایتی لباس میں ملبوس افراد، بکتر بند سامورائی جنگجوؤں کا روپ دھارے شرکاء اور روایتی لباس میں ملبوس بچے ایک کلومیٹر طویل چڑھائی طے کر کے واپس مزار تک پہنچے۔ اس مذہبی سفر کا اختتام جنگل میں گونجتی سنکھ کی آوازوں اور تین سو تیس پتھریلی سیڑھیاں عبور کرنے کے بعد ہوا۔
