پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی خبریں پھیلتے ہی ملک کے مختلف شہروں میں شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ صارفین ممکنہ مہنگائی سے بچنے کے لیے اپنے ٹینک فل کروانے میں مصروف ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں ردوبدل سے قبل اس طرح کے مناظر اب ایک معمول بن چکے ہیں۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی قیمت جو حالیہ تنازعات سے قبل تقریباً 266 روپے فی لیٹر تھی اب بڑھ کر 393 روپے کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 335 روپے 86 پیسے سے بڑھ کر تقریباً 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
