برطانوی شاہ چارلس سوئم کا کانگریس سے خطاب دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی تجدید اور مفاہمت کا عکاس ہے۔ سی بی ایس نیوز کی کنٹری بیوٹر ٹینا براؤن نے اپنے تبصرے میں کہا کہ شاہ چارلس نے اس خطاب کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ امریکہ اور برطانیہ کے باہمی رشتے موجودہ سیاسی کشیدگی سے کہیں زیادہ بلند ہیں۔ ان کے مطابق یہ خطاب انتہائی نپا تلا اور موثر تھا جس میں بادشاہ نے سیاست سے بالا تر رہ کر اپنے ملک کے موقف کی ترجمانی کی۔
شاہ چارلس نے اپنے خطاب میں یوکرین، نیٹو اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے اہم عالمی مسائل کا خصوصی تذکرہ کیا۔ ٹینا براؤن کے مطابق یہ وہ موضوعات ہیں جن پر شاہ چارلس کے اپنے ٹھوس نظریات ہیں اور وہ ان پر سمجھوتہ کرنے کے روادار نہیں۔ انہوں نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو سینڈرنگہم میں چائے پر مدعو کرنے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام یوکرین کے ساتھ برطانوی یکجہتی کا عملی اظہار تھا۔
واشنگٹن کے دورے کے بعد شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا نے نیویارک میں نائن الیون میموریل کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ٹینا براؤن نے کہا کہ یہ دورہ امریکہ کو ان قربانیوں کی یاد دہانی کرانے کے مترادف تھا جو برطانوی افواج نے افغانستان اور عراق میں دی ہیں۔ یہ پیغام خاص طور پر اس وقت اہمیت کا حامل ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو اتحادیوں کے کردار پر تنقید کی گئی تھی۔
شاہی خاندان کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹینا براؤن نے کہا کہ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کی مقبولیت نے بادشاہت کو ایک مستحکم مقام دیا ہے۔ انہوں نے شہزادی کیٹ کو شاہی خاندان کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی عوامی مقبولیت نے تمام تر تنازعات کے باوجود برطانوی بادشاہت کو نئی تقویت بخشی ہے۔
ٹینا براؤن نے شہزادہ ولیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی وقار اور صبر کے ساتھ خاندانی معاملات کو سنبھالا ہے۔ واضح رہے کہ شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا اپنے دورہ امریکہ کے تسلسل میں جمعرات کو ورجینیا میں مختلف تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔
