جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب ملک کے صدر نے دو ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
لبنانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ کفر رومان میں ایک گھر پر کیے گئے حملے میں ان کا ایک فوجی اور اس کے خاندان کے کئی افراد لقمہ اجل بن گئے۔ تاہم وزارت صحت کے اعداد و شمار میں ابھی تک اس واقعے کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان کے چار مختلف مقامات پر کیے گئے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں میں پانچ خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق ایک حملے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد جبکہ دوسرے حملے میں قبرستان کے قریب موجود چھ افراد مارے گئے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے بھی اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فورسز کی جانب سے رہائشی مکانات اور عبادت گاہوں کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے اور ہلاکتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر عون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور شہریوں، طبی عملے اور امدادی تنظیموں کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔ انہوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی جب اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والے تین پیرامیڈیکس کی تدفین کی جا رہی تھی۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مزید 20 دیہاتوں کو خالی کرنے کی تنبیہ جاری کی ہے جبکہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی ٹینکوں اور فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بیروت میں جنوبی لبنان کے مکینوں اور مقامی عہدیداروں نے اپنے دیہاتوں کی تباہی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
جنگ بندی کے معاہدے کی شقوں پر لبنان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے جاری کردہ متن کے مطابق اسرائیل کو کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے، تاہم حزب اللہ نے اس شق کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے کبھی بھی لبنانی کابینہ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا۔
صدر عون کا کہنا ہے کہ یہ متن نومبر 2024 کے معاہدے کا حصہ تھا جس پر تمام فریقین نے اتفاق کیا تھا۔ اس کے جواب میں پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے صدر کے بیان کو غلط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نومبر 2024 کے معاہدے کے حوالے سے بھی یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔
