برطانیہ نے شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودی شہریوں پر چاقو کے حملے کے بعد ملک میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو سبسٹینشل سے بڑھا کر سیویئر کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد شدت پسند نظریات اور انتہا پسندی سے نمٹنا ہے۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے اس واقعے کو گھناؤنا اور دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال خاص طور پر یہودی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے جو پہلے ہی کئی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
پولیس نے چاقو کے حملے کے بعد 47 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس پر اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حکومتی بیان کے مطابق یہ فیصلہ صرف حالیہ واقعے کے پیش نظر نہیں کیا گیا بلکہ ملک میں دہشت گردی کے خطرات میں گزشتہ کچھ عرصے سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
لندن کے میئر صادق خان نے بھی یہودی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ سیویئر کی سطح سکیورٹی کی تیاریوں کا دوسرا اعلیٰ ترین درجہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کا حملہ انتہائی متوقع ہے۔
اس سے قبل ایک ماہ قبل اسی علاقے میں یہودی برادری کی ایمبولینس سروس کی چار گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے گولڈرز گرین کا دورہ کیا اور ریسکیو اہلکاروں سے ملاقات کی، جبکہ مقامی شہریوں نے حکومت سے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی سماجی کارکن ڈوو فورمین کا کہنا ہے کہ اس حملے پر کسی کو حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ ماضی کے واقعات کے بعد عوام پہلے ہی کسی بڑے حملے کے خدشے کا شکار تھے۔ اس رپورٹ کی تیاری میں عنایہ فولارین ایمان نے معاونت کی ہے۔
