امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ نئے مجوزہ منصوبے کا جائزہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں تاہم انہوں نے اس منصوبے کے قابل قبول ہونے پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ وہ جلد ایران کی جانب سے بھیجے گئے منصوبے کا جائزہ لیں گے لیکن ان کا ماننا ہے کہ اس کا قابل قبول ہونا مشکل ہے کیونکہ ان کے نزدیک تہران نے گزشتہ 47 برسوں کے دوران انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی بھاری قیمت ابھی تک ادا نہیں کی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے 14 نکاتی منصوبہ پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد تنازع کا مستقل خاتمہ ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس فریم ورک میں عدم جارحیت کی ضمانتیں، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر دشمنی روکنے کے مطالبات شامل ہیں۔
فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ڈیل کے تصور سے آگاہ کر دیا گیا ہے لیکن حتمی فیصلہ تفصیلی جائزے کے بعد کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے بے چین ہے کیونکہ وہ معاشی طور پر تباہ حال ہو چکا ہے تاہم کسی بھی معاہدے کو امریکی معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف عسکری کارروائی کا آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے کسی قسم کی شرارت کی یا کوئی غلط قدم اٹھایا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال امریکہ تہران کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن پر ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ وہ جنگ کی بحالی کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پاسداران انقلاب نے امریکہ پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوبارہ دشمنی شروع ہونے کا امکان موجود ہے۔ جاری کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے مابین سفارتی ذرائع فعال ہیں۔
