وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی فعال اور اعلیٰ سطحی سفارت کاری نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ فیصل آباد میں ایک میڈیکل کالج کے کانووکیشن سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک ممکنہ تباہ کن تنازع کو ٹالنے کے لیے غیر معمولی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے جس سے خطے کو بڑے پیمانے پر تباہی اور عدم استحکام سے بچایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کا اعتراف کر رہی ہے اور پاکستانی قیادت کی بصیرت کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ اس تعریف کا دائرہ کار صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک محدود نہیں بلکہ اس میں سعودی عرب اور ایران سمیت دیگر اہم ممالک بھی شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈے پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کچھ عناصر ذاتی عناد اور منفی سیاست کے ذریعے پاکستان کا امیج خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم قوم نے ہمیشہ ایسے بیانیے کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران عوام نے اپنی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہو کر گمراہ کن مہمات کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کسی بھی بیک ڈور ڈیل کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق تمام معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانونی ریلیف صرف عدالتی فورمز کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے اور فیصلے میرٹ پر ہوں گے۔
رانا ثناء اللہ نے اعادہ کیا کہ شفافیت، میرٹ اور احتساب حکومت کے رہنما اصول ہیں جن کا مقصد عوامی وسائل کا درست اور موثر استعمال یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار مسلسل عالمی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور پاکستان نے عالمی سطح پر مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے موقف کو کامیابی سے اجاگر کیا ہے۔
