-Advertisement-

ادویات سکینڈل: پشاور کی احتساب عدالت نے ملزم کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ نیب کے حوالے کر دیا

تازہ ترین

وزیرِ اعظم کی بجلی کے نرخوں کو متوازن بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی کی ہدایت

وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت...
-Advertisement-

پشاور کی احتساب عدالت نے سرکاری ادویات کی خریداری میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کے کیس میں گرفتار ملزم سید خورشید علی کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج حامد مغل نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ملزم سید خورشید علی اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نیب کے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر بھی عدالت میں موجود تھے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو میڈیسن کوآرڈینیشن سیل میں خوردبرد کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم نے محکمہ صحت کے افسران کے ساتھ ملی بھگت کر کے ایک جعلی بینک اکاؤنٹ کھولا۔ محکمہ صحت نے نجی کمپنی سے ادویات کی خریداری کے لیے 342.4 ملین روپے مختص کیے تھے، جس میں سے 153 ملین روپے فرم کو ادا کیے گئے تاہم باقی ماندہ 184.4 ملین روپے ملزمان نے خرد برد کر لیے۔

نیب پراسیکیوٹر نے مزید تفتیش کے لیے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سید خورشید علی کو سات روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ امین حسین نامی قیدی کو سات دن کے اندر سینٹرل جیل کراچی سے صوبے میں منتقل کرے۔ مذکورہ قیدی اپنی سزا 12 سال قبل مکمل کر چکا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -