-Advertisement-

وزیرِ اعظم کی بجلی کے نرخوں کو متوازن بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی کی ہدایت

تازہ ترین

ایران کی جانب سے پیش کردہ نئی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

تہران نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک نیا 14 نکاتی مسودہ...
-Advertisement-

وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو بجلی کے نرخوں میں استحکام لانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے صنعتی اور گھریلو صارفین کو ریلیف فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری لانے اور لائن لاسز کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیر اعظم نے توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کا حکم دیا۔ انہوں نے صارفین کے لیے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کو مزید آسان بنانے کی غرض سے ڈیجیٹل سہولیات بڑھانے کی بھی ہدایت کی۔ بجلی چوری کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ صنعتی ترقی کے لیے بلا تعطل بجلی کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گھریلو صارفین کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

اجلاس میں ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر گھریلو اور صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی کھپت سے متعلق سفارشات بھی پیش کی گئیں۔

دریں اثنا وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق وزیر داخلہ نے ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور اس سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔ ملاقات میں اتوار کو لاہور میں ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے فائنل میچ کے لیے سکیورٹی انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ کھلاڑیوں، تماشائیوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بہترین سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -