-Advertisement-

ایران کی جانب سے امریکہ کو 14 نکاتی تجاویز ارسال، پیش رفت کا انحصار امریکی موقف پر ہے

تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود اوپیک پلس کا تیل کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ

اوپیک پلس نے جون کے مہینے کے لیے تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے پر اتفاق کر لیا ہے...
-Advertisement-

تہران نے پاکستان کے توسط سے امریکہ کو مذاکرات کا ایک نیا 14 نکاتی مسودہ بھجوا دیا ہے جس پر واشنگٹن کی جانب سے جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ایران نے مذاکرات کا نیا منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں پیش رفت کا مکمل انحصار امریکی رویے میں تبدیلی پر منحصر ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران کا موقف شفاف ہے اور وہ اپنے قومی مفادات اور دفاعی معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ اگر وہ کسی مفاہمت تک پہنچنے میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنی جارحانہ پالیسی ترک کرنا ہوگی۔

رضا امیری مقدم نے پاکستان کو اس سفارتی عمل میں مرکزی ثالث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کردار بدستور اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے امریکی پالیسی میں تضادات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کے دروازے کھلے ہیں تاہم پیش رفت کی ذمہ داری اب امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں ایران کی جانب سے 14 نکاتی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی صدر نے ایران کے نامناسب رویے کی صورت میں فوجی کارروائی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

اس پیش رفت کے تناظر میں اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے متعلق ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے اسرائیلی ملٹری چیف ایال ضمیر اور امریکی سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات فروغ پا رہے ہیں اور میرجاوہ، تفتان اور گبد ریمدان جیسے سرحدی راستے دوطرفہ معاشی روابط میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -