امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن کو ایران کی جانب سے 14 نکاتی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل تہران نے پاکستان کے توسط سے امریکہ کو مذاکرات کا ایک نیا منصوبہ بھجوایا ہے۔
اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا دارومدار امریکی رویے میں تبدیلی پر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنے قومی مفادات اور دفاعی امور پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی سفیر نے پاکستان کو اس عمل میں مرکزی ثالث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کردار بدستور اہم ہے۔ انہوں نے امریکی پالیسی میں تضاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اب واشنگٹن کے درست اقدامات پر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ ایران کے حقوق کا احترام کرے اور جارحانہ رویہ ترک کرے۔
رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین اقتصادی اور سیاسی تعلقات فروغ پا رہے ہیں اور تفتان، میرجاوہ اور گبد رمدان جیسے سرحدی راستے تجارت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے بھیجے گئے 14 نکاتی فارمولے کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم انہوں نے ایران کے غلط رویے کی صورت میں فوجی کارروائی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی عسکری سربراہ ایال زامیر اور امریکی سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر کے مابین ایران سے متعلق ممکنہ اقدامات پر رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔
