-Advertisement-

سویڈش کوسٹ گارڈ کی بحیرہ بالٹک میں روسی شیڈو فلیٹ کے مشتبہ آئل ٹینکر پر کارروائی

تازہ ترین

خطے میں کشیدگی: ایران کا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ

تہران (ویب ڈیسک) ایران کی پارلیمنٹ نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں...
-Advertisement-

سویڈن کے کوسٹ گارڈ نے بحیرہ بالٹک میں روس کے مبینہ شیڈو فلیٹ سے تعلق رکھنے والے ایک آئل ٹینکر کو تحویل میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ چند ماہ کے دوران اس نوعیت کے اقدامات کا تسلسل ہے۔

سویڈش کوسٹ گارڈ اور پولیس نے ٹریلیبورگ کے جنوب میں سویڈن کی حدود میں شام کے جھنڈے تلے چلنے والے جہاز جن ہوئی پر چھاپہ مارا اور اس کی سمندری اہلیت کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ جہاز کے جھنڈے کی حیثیت میں متعدد بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں جس سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ جہاز غلط شناخت کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں جہاز بین الاقوامی ضابطوں اور معاہدوں کے تحت درکار سمندری اہلیت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

حکام کے مطابق یہ جہاز یورپی یونین اور برطانیہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ تاحال اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ جہاز کس منزل کی جانب رواں دواں تھا تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس میں کوئی کارگو موجود نہیں تھا۔

سویڈن کے وزیر برائے شہری دفاع کارل آسکر بولن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ جہاز روس کے نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ ہونے کا شبہ ہے۔

یورپی ممالک یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے لیے ماسکو کی مالی معاونت روکنے کی غرض سے اس شیڈو فلیٹ کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر چکے ہیں۔ دوسری جانب روس ان اقدامات کو دشمنی پر مبنی قرار دے کر مسترد کرتا ہے۔

سویڈن کی جانب سے رواں برس اب تک پانچ ایسے جہازوں کو روکا جا چکا ہے جن پر تیل کے اخراج اور غلط جھنڈے کے ساتھ سفر کرنے جیسے الزامات ہیں۔ ان میں سے کچھ جہازوں کے عملے کے ارکان کے خلاف مجرمانہ کارروائیاں بھی شروع کی گئی ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -