-Advertisement-

پاکستان کی جانب سے 22 ایرانی عملے کی بحفاظت وطن واپسی میں معاونت

تازہ ترین

ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس: کمیٹی کا اجلاس، سی ڈی اے سے تفصیلات طلب

اسلام آباد میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کا...
-Advertisement-

وزارت خارجہ پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے قبضے میں لیے گئے ایرانی کنٹینر بردار جہاز ایم وی توسکا کے عملے کے بائیس ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کا حصہ ہے اور ان افراد کو آج ایرانی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایرانی جہاز کو بھی ضروری مرمت کے بعد پاکستانی حدود میں لایا جائے گا تاکہ اسے قانونی مالکان کے حوالے کیا جا سکے۔ اس تمام عمل کو ایران اور امریکہ دونوں کے تعاون سے مربوط بنایا گیا ہے۔ پاکستان نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں اور مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ پیش رفت انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے تھے۔ آٹھ اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کے بعد اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات بھی ہوئے تھے۔

جنگ بندی کے باوجود امریکہ نے ایرانی جہازوں کو روکنے کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز خلیج میں پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے مشترکہ کمانڈ کے سربراہ علی عبداللہی نے امریکہ کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی ایران کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی غیر ملکی فوج، بالخصوص امریکی فوج کی جانب سے پیش قدمی کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی جائے گی۔ ایران نے تجارتی جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایرانی عسکری قیادت سے رابطہ کیے بغیر کسی قسم کی نقل و حرکت نہ کریں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -