-Advertisement-

کیریبین سمندر میں امریکی کارروائی، منشیات اسمگلنگ کے شبے میں کشتی پر حملہ، 2 افراد ہلاک

تازہ ترین

لندن: سابقہ یہودی عبادت گاہ میں آتشزدگی، انسداد دہشت گردی پولیس کی تحقیقات شروع

لندن میں برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے ایک اور واقعے کی تحقیقات...
-Advertisement-

امریکی فوج نے کیریبین سمندر میں منشیات کی اسمگلنگ کے شبے میں ایک کشتی پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پیر کے روز ہونے والا یہ حملہ ستمبر کے اوائل سے جاری اس مہم کا تسلسل ہے جس کے تحت لاطینی امریکہ کے سمندری حدود میں مبینہ اسمگلروں کی کشتیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس مہم کے دوران اب تک مجموعی طور پر 188 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

امریکی سدرن کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی منشیات کی ترسیل کے معروف راستوں پر کی گئی ہے۔ حکام نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک کشتی کو دھماکے کے بعد شعلوں میں گھرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکی فوج کی جانب سے اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ نشانہ بننے والی کشتیوں میں منشیات موجود تھیں۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کے باوجود، حالیہ ہفتوں میں ان حملوں کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکہ لاطینی امریکہ میں کارٹیلز کے ساتھ مسلح تصادم کی حالت میں ہے اور یہ اقدامات منشیات کی روک تھام اور امریکی شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

دوسری جانب ناقدین نے ان حملوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں تیز کی گئی ہیں جب خطے میں امریکی فوج کی موجودگی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اس سے قبل جنوری میں ایک بڑے آپریشن کے دوران وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -