تہران (ویب ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں جاری سیاسی بحرانوں کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سفارت کاری میں مضمر ہے۔
تہران میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے دوران پیش کی گئی تجاویز اور سفارشات سے ارکان کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق پارلیمانی کمیٹیوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران کے قومی مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ امریکہ کسی نئی طویل جنگ میں الجھنے سے گریز کرے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کو بھی موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ عراقچی نے واشنگٹن کے میری ٹائم سیکیورٹی اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جسے فریڈم پروجیکٹ کا نام دیا جا رہا ہے وہ درحقیقت ڈیڈ لاک پروجیکٹ ثابت ہو رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں حالیہ نقل و حرکت پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان تضاد برقرار ہے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ دو تجارتی جہازوں کو بحری تحفظ فراہم کیا گیا اور چھ ایرانی کشتیوں کو ناکارہ بنایا گیا تاہم تہران نے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ شپنگ کمپنی مائرسک نے تصدیق کی ہے کہ امریکی پرچم بردار جہاز کو فوجی حصار میں خلیج سے نکالا گیا ہے۔
امریکی کمانڈر بریڈ کوپر نے ایرانی فورسز کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی اثاثوں کے قریب نہ آئیں۔ اس کشیدگی کے درمیان ایران نے ایک نیا نقشہ بھی جاری کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں کے قریب وسیع تر سمندری حدود پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
