-Advertisement-

ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: بھارتی پائلٹس کا واقعے کی مزید تحقیقات کا مطالبہ

تازہ ترین

پاکستان نے جارحیت کا بھرپور جواب دیا، بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں سفارت کاروں اور سفارتی کور کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے...
-Advertisement-

فیڈریشن آف انڈین پائلٹس (ایف آئی پی) نے بھارتی وزارت ہوا بازی کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس پیش آنے والے ایئر انڈیا کے مہلک طیارہ حادثے کی وجہ پائلٹ کی غلطی نہیں بلکہ تکنیکی خرابی ہو سکتی ہے۔ یہ پیش رفت 12 جون 2025 کو پیش آنے والے بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کے اجرا سے قبل سامنے آئی ہے جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بھارت کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو نے حادثے کے ایک ماہ بعد 12 جولائی کو ابتدائی رپورٹ جاری کی تھی۔ 15 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں کہا گیا تھا کہ طیارے کے انجنوں کو ایندھن کی فراہمی حادثے سے چند لمحے قبل منقطع ہو گئی تھی، جس سے پائلٹ کی غلطی کے امکانات پیدا ہوئے تھے۔ تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ ایندھن کی فراہمی بند ہونے کی وجہ پائلٹ کا عمل تھا یا کوئی تکنیکی خرابی۔

پانچ ہزار سے زائد ارکان پر مشتمل پائلٹس کی تنظیم ایف آئی پی نے یکم مئی کو ارسال کردہ اپنے خط میں ایک تکنیکی نوٹ پیش کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ٹیک آف سے قبل بجلی کے نظام میں خلل کے باعث غیر ارادی طور پر ریلے آپریشن متحرک ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے پائلٹ کی مداخلت کے بغیر ہی دونوں انجنوں کو ایندھن کی فراہمی منقطع ہو سکتی ہے۔

پائلٹس تنظیم نے میڈیا میں پائلٹ کی غلطی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے قواعد کے مطابق کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام ممکنہ تکنیکی وجوہات کا جائزہ لینا لازمی ہے۔ ایف آئی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے پیش کردہ ہائپوتھیسز کو ایک قابل جانچ مفروضہ سمجھا جائے اور تفصیلی برقی تجزیے کے ذریعے اس کی تصدیق کی جائے۔

یاد رہے کہ احمد آباد سے ٹیک آف کے فوراً بعد پیش آنے والے اس المناک حادثے کی حتمی رپورٹ آئندہ ماہ متوقع ہے جو کہ سانحے کے ایک سال مکمل ہونے پر جاری کی جائے گی۔ پائلٹس تنظیم کا اصرار ہے کہ جب تک مذکورہ تکنیکی پہلوؤں کا مکمل تجزیہ نہیں کر لیا جاتا، تب تک تکنیکی خرابی کے امکان کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -