-Advertisement-

ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی، امریکی وزیر دفاع کا بیان

تازہ ترین

امریکہ نے جنگ کا راستہ چنا، دنیا نتائج بھگت رہی ہے، ایران

تہران نے امریکہ پر جنگ کا راستہ منتخب کرنے کا براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے...
-Advertisement-

مشرق وسطیٰ میں قائم نازک جنگ بندی منگل کے روز شدید دباؤ کا شکار ہو گئی جب خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے تنازع پر امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے منگل کے روز واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے شروع کیا گیا امریکی آپریشن عارضی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کسی جنگ کا خواہشمند نہیں ہے اور ایران کے ساتھ جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے عزم ظاہر کیا تھا کہ ہم جارحانہ انداز میں اپنا دفاع کریں گے اور ہم نے بالکل ایسا ہی کیا ہے۔ ایران اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے اور حتمی فیصلہ صدر کو کرنا ہے کہ آیا یہ صورتحال جنگ بندی کی خلاف ورزی میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز پروجیکٹ فریڈم نامی ایک نئے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد اس اہم آبی گزرگاہ کا کنٹرول ایران سے واپس حاصل کرنا ہے، جس نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تنازع کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا تھا۔

پیٹ ہیگسیٹھ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ فریڈم دفاعی نوعیت کا حامل ہے جس کا دائرہ کار محدود اور دورانیہ عارضی ہے۔ اس مشن کا واحد مقصد معصوم تجارتی جہازوں کو ایرانی جارحیت سے محفوظ رکھنا ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ امریکی افواج کو ایرانی حدود یا فضائی حدود میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ غیر ضروری ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ امریکہ کسی جنگ کا متلاشی نہیں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -