-Advertisement-

یورپی نوجوان جذباتی سہارے کے لیے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کا استعمال کرنے لگے

تازہ ترین

آبنائے ہرمز: ایران کا تجارتی جہازوں کی نقل و حمل کے لیے نیا نظام قائم

تہران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حمل کے لیے ایک نیا طریقہ کار وضع کر...
-Advertisement-

یورپ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جذباتی اور نجی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی چیٹ بوٹس کا سہارا لینے لگی ہے۔ فرانس کے پرائیویسی واچ ڈاگ سی این آئی ایل اور انشورنس گروپ وی وائی وی کی جانب سے کروائے گئے سروے کے مطابق ہر دو میں سے ایک نوجوان ذاتی معاملات پر گفتگو کے لیے چیٹ بوٹس کو ترجیح دیتا ہے۔

فرانس، جرمنی، سویڈن اور آئرلینڈ میں 11 سے 25 سال کی عمر کے 3800 افراد پر کیے گئے اس سروے میں انکشاف ہوا کہ 51 فیصد نوجوانوں کے لیے چیٹ بوٹس کے ساتھ ذہنی صحت کے مسائل پر بات کرنا آسان ہے۔ اس کے برعکس صرف 49 فیصد افراد نے طبی ماہرین اور 37 فیصد نے ماہرین نفسیات کے ساتھ گفتگو کو آسان قرار دیا۔ فہرست میں پہلے نمبر پر دوست اور والدین رہے جن کے ساتھ بات کرنے کو بالترتیب 68 اور 61 فیصد نوجوانوں نے آسان سمجھا۔

سروے میں شامل 28 فیصد نوجوانوں میں عمومی اضطراری کیفیت کی علامات پائی گئیں۔ تقریباً 90 فیصد نوجوان ماضی میں اے آئی ٹولز کا استعمال کر چکے ہیں، جن میں سے تین میں سے دو افراد چیٹ بوٹس کو اپنا لائف ایڈوائزر یا رازداں مانتے ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اے آئی کی مستقل دستیابی اور تنقید سے پاک رویہ انہیں پرکشش لگتا ہے۔

ماہرین نفسیات اور ڈیجیٹل ہیلتھ محقق لڈوِگ فرانکے فوئن نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی انسانی جذبات کو سمجھنے اور محفوظ جذباتی مدد فراہم کرنے میں محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی معلومات تو دے سکتا ہے مگر اسے انسانی تعلقات یا پیشہ ورانہ طبی علاج کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص والدین یا ماہرین کے بجائے چیٹ بوٹ کا رخ کرتا ہے تو یہ تشویشناک ہے کیونکہ ٹیکنالوجی تنہائی کا مداوا نہیں ہونی چاہیے۔

اے آئی کے نفسیاتی اثرات پر خدشات اس وقت مزید گہرے ہوئے جب رواں سال امریکہ میں ایک خاندان نے گوگل کے جیمنی اے آئی چیٹ بوٹ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایک شخص میں ذہنی انتشار پیدا کیا جس کے بعد اس نے خودکشی کر لی۔ ماہرین کے مطابق اے آئی سسٹمز کو صارفین کو مصروف رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جن کے مقاصد ذہنی صحت کی دیکھ بھال سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -