خلیج عمان میں امریکی بحری افواج نے ایرانی پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی حسنا کو روک کر اسے ناکارہ بنا دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق یہ کارروائی بدھ کے روز اس وقت عمل میں لائی گئی جب ٹینکر نے امریکی بحری ناکہ بندی سے متعلق انتباہات کو نظر انداز کر دیا۔
سینٹ کام کے بیان کے مطابق ٹینکر کو مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی بندرگاہ کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ امریکی افواج کی جانب سے ٹینکر کے عملے کو متعدد بار وارننگ جاری کی گئی کہ وہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
عملے کی جانب سے ہدایات پر عمل نہ کرنے کے بعد امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے اڑنے والے ایف اے اٹھارہ سپر ہارنیٹ طیارے نے ٹینکر کے ردھم پر بیس ملی میٹر کینن سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ٹینکر ناکارہ ہو گیا اور اب وہ ایران کی جانب سفر جاری رکھنے سے قاصر ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر آنے اور جانے والے جہازوں کے خلاف ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کا ماحول برقرار ہے۔ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی تھی جس کے باعث آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا تھا۔
پاکستان کی ثالثی کے بعد آٹھ اپریل کو جنگ بندی کا نفاذ ہوا تھا تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی دیرپا معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کر دی تھی۔
تیرہ اپریل سے امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری نقل و حمل کے خلاف ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے لیے پروجیکٹ فریڈم کو عارضی طور پر روک رہی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکی ناکہ بندی اپنی پوری قوت کے ساتھ برقرار رہے گی۔
