-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر مارکو روبیو اور پوپ لیو کی ویٹیکن میں اہم ملاقات

تازہ ترین

ایران کی حمایت پر امریکہ کی عراقی نائب وزیر تیل اور ملیشیاؤں پر پابندیاں

واشنگٹن نے ایران کی حمایت اور دہشت گردی میں مبینہ کردار کے الزامات کے تحت عراق کے نائب وزیر...
-Advertisement-

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کے روز ویٹیکن سٹی میں پوپ لیو چہارم سے ملاقات کی ہے۔ اس اہم ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور مغربی نصف کرے سے متعلق باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ کے مطابق یہ ملاقات امریکہ اور ہولی سی کے مابین مضبوط تعلقات کی عکاس ہے اور دونوں فریقین نے عالمی امن اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ایک کیتھولک عقیدے کے حامل مارکو روبیو نے ویٹیکن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کارڈینل پیٹرو پیرولن سے بھی الگ ملاقات کی۔ اس نشست میں دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی سطح پر درپیش چیلنجز اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں پر بات چیت کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات بند کمرے میں ہوئی اور صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم ویٹیکن کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں دونوں رہنماؤں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مارکو روبیو اپوسٹولک محل میں دو گھنٹے پندرہ منٹ تک موجود رہے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکی صدر ٹرمپ اور پوپ لیو چہارم کے مابین سخت بیان بازی کا سلسلہ جاری تھا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے پوپ کے مؤقف اور تارکین وطن کی پالیسی پر تنقید کی تھی، جس کے جواب میں پوپ نے امن کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران پوپ کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ کیتھولک آبادی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ان کا رویہ درست نہیں ہے۔

اس صورتحال کے تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو، جو خود کیتھولک عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں، کو صدر ٹرمپ کے بیانات اور اپنے مذہبی عقائد کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے سوالات کا سامنا ہے۔ جے ڈی وینس نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ پوپ کو مذہبی معاملات پر بات کرتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -