-Advertisement-

ایرانی ڈرون حملوں کے باعث خلیجی ایئرلائنز کی بحالی کا عمل تعطل کا شکار

تازہ ترین

ایران کی حمایت پر امریکہ کی عراقی نائب وزیر تیل اور ملیشیاؤں پر پابندیاں

واشنگٹن نے ایران کی حمایت اور دہشت گردی میں مبینہ کردار کے الزامات کے تحت عراق کے نائب وزیر...
-Advertisement-

مشرق وسطیٰ کی فضائی کمپنیوں کی پروازوں کی تعداد ایک ہفتے سے زائد عرصے میں اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ ایران کے ڈرون حملوں کے بعد خلیجی خطے میں فضائی راستوں کی تبدیلی اور ہوائی اڈوں کی بندش نے فضائی سفر کے شعبے کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ فروری کے اواخر میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد سے فضائی صنعت کی بحالی کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔

فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق ایمریٹس، اتحاد ایئرویز، فلائی دبئی، قطر ایئرویز اور ایئر عریبیہ کی پروازیں 28 فروری کو ایران پر ہونے والے ابتدائی حملوں کے بعد تقریباً صفر ہو گئی تھیں۔ متحدہ عرب امارات کے اہم مراکز دبئی اور ابوظہبی سے پروازوں کی بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہے اور یہ اب بھی تنازع سے قبل کی سطح سے کافی نیچے ہے۔

پیر کے روز ہونے والے ڈرون حملوں کے باعث بحالی کا عمل مزید رک گیا۔ ان حملوں کی وجہ سے متحدہ عرب امارات آنے والی پروازوں کو عمان کے دارالحکومت مسقط یا سعودی عرب کے شہر ریاض کی جانب موڑنا پڑا، جبکہ دیگر طیاروں کو سعودی فضائی حدود میں چکر کاٹنے پڑے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ کمی اتحاد ایئرویز اور قطر ایئرویز کی پروازوں میں دیکھی گئی ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایمریٹس ایئر لائن اپنی قبل از تنازع پروازوں کی 84 فیصد سطح پر واپس آ چکی ہے، جبکہ ایئر عریبیہ اور اتحاد ایئرویز کی پروازیں فروری کی سطح کے 60 فیصد تک ہیں۔ دوسری جانب قطر ایئرویز اور فلائی دبئی کی پروازوں کی تعداد 51 فیصد تک محدود ہے۔

اس تنازع کے اثرات خلیجی خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جیٹ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کمپنیوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے جن کے پاس تیل کے ذخائر کے متبادل انتظامات موجود نہیں ہیں۔ یورپ اور ایشیا بھر میں پروازوں کے نظام الاوقات درہم برہم ہو چکے ہیں، جس کے باعث ایئر لائنز کو اپنے طیارے کھڑے کرنے اور انہیں نئے مقامات پر منتقل کرنے کے لیے طویل اور غیر ضروری پروازیں چلانا پڑ رہی ہیں۔

فضائی سفر کے اس حالیہ بحران کے پیش نظر کوانٹاس ایئرویز نے 14 اپریل کو بڑھتے ہوئے اخراجات کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ اسی طرح لفتھانسا نے طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ ورجن اٹلانٹک نے ایندھن کی سپلائی میں کمی اور ممکنہ بحران کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -