-Advertisement-

ایران کی حمایت پر امریکہ کی عراقی نائب وزیر تیل اور ملیشیاؤں پر پابندیاں

تازہ ترین

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے اہم ملاقات

تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات...
-Advertisement-

واشنگٹن نے ایران کی حمایت اور دہشت گردی میں مبینہ کردار کے الزامات کے تحت عراق کے نائب وزیر تیل اور ایران نواز ملیشیا کے رہنماؤں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدام تہران کے ساتھ جاری کشیدگی اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

امریکی حکام نے عراق کے نائب وزیر تیل علی معارج البہادلی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنے سرکاری عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے تیل کی اسمگلنگ میں سہولت کاری کی۔ محکمہ خزانہ کا دعویٰ ہے کہ یہ تیل ایرانی حکومت اور عراق میں موجود اس کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے مالی مفادات کے لیے فروخت کیا جا رہا تھا۔

اس پیش رفت کے ساتھ ہی امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک دو بڑی عسکری تنظیموں کتیب سید الشہدا اور عصائب اہل الحق کے تین اعلیٰ رہنماؤں کو بھی بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کی جانب سے عراقی تیل کے ذریعے دہشت گردی کی فنڈنگ کو خاموشی سے برداشت نہیں کرے گا۔

ان پابندیوں کے تحت مذکورہ افراد کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے کاروباری یا مالی لین دین سے روک دیا گیا ہے۔ عراقی وزارت تیل یا نائب وزیر کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک عارضی معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔ تہران اس وقت ایک ایسی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد لڑائی کو روکنا ہے، تاہم اہم اور متنازع معاملات تاحال حل طلب ہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں عراقی وزیر تیل حیان عبدالغنی نے اعتراف کیا تھا کہ خلیج فارس میں امریکی فورسز کی جانب سے پکڑے گئے ایرانی آئل ٹینکرز پر جعلی عراقی دستاویزات استعمال کی جا رہی تھیں۔ تاہم تہران نے ان دستاویزات کے استعمال کی تردید کی تھی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -