امریکا اور ایران کے درمیان جاری ایک ماہ طویل جنگ بندی کے دوران جمعرات کو شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جو فریقین کے درمیان اب تک کا سب سے بڑا چیلنج قرار دی جا رہی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال معمول پر آ چکی ہے جبکہ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔
یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں بڑھی ہے جب واشنگٹن تہران کے جواب کا منتظر ہے۔ امریکا نے ایک ایسی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد لڑائی کا خاتمہ ہے تاہم اس میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے متنازع معاملات کو فی الحال حل نہیں کیا گیا ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے دو جہازوں کو نشانہ بنایا اور ایرانی حدود میں فضائی حملے کیے۔ دوسری جانب امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ انہوں نے واقعے کی اہمیت کو کم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور ہم نے انہیں منہ توڑ جواب دیا ہے۔
ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے ایک آئل ٹینکر اور دیگر جہاز کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران کے مطابق امریکی حملے جزیرہ قشم اور بندر خمیر و سرک کے ساحلی علاقوں تک محدود رہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے آبنائے کے مشرق اور چاہ بہار کے جنوب میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جس سے انہیں بھاری نقصان پہنچا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے کسی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔ سینٹ کام کے بیان کے مطابق ایران نے تین امریکی ڈسٹرائر جہازوں پر میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں سے حملہ کیا جس کے جواب میں امریکا نے میزائل اور ڈرون سائٹس کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فوجی ترجمان نے سرکاری ٹی وی پر واضح کیا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم بعد ازاں ایران کے پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ کئی گھنٹوں کی کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کے جزائر اور ساحلی شہروں میں حالات معمول پر آ گئے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اس تمام صورتحال کے باوجود مذاکرات جاری رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور ایران نے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
اس تنازع کے باعث عالمی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روز ایشیا میں امریکی خام تیل کے نرخوں میں تین فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ فروری کے اختتام سے اب تک امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں چالیس فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں خلل ہے۔
