تعلیمی اداروں کے زیر استعمال آن لائن لرننگ مینجمنٹ سسٹم کینوس پر سائبر حملے کے باعث دنیا بھر میں ہزاروں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کا تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس حملے سے طلبہ کے امتحانات کے عمل میں شدید خلل پیدا ہوا ہے اور تعلیمی شعبے کا ٹیکنالوجی پر انحصار ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
سائبر سیکیورٹی فرم ایمی سافٹ کے تھریٹ اینالسٹ لیوک کونولی کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری شائنی ہنٹرز نامی ہیکنگ گروپ نے قبول کی ہے۔ یہ گروپ امریکہ اور برطانیہ میں موجود نوجوانوں کا ایک گروہ بتایا جاتا ہے جس کا ماضی میں ٹکٹ ماسٹر جیسی کمپنیوں پر حملوں سے بھی تعلق رہا ہے۔
کینوس سسٹم تیار کرنے والی کمپنی انسٹرکچر نے جمعرات کی رات دیر گئے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سسٹم اب زیادہ تر صارفین کے لیے بحال ہو چکا ہے۔ تاہم اس سے قبل پین اسٹیٹ، کولمبیا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف وسکونسن، شکاگو کی متعدد یونیورسٹیاں اور ہارورڈ سمیت کئی بڑے اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔
پین اسٹیٹ انتظامیہ نے طلبہ کو آگاہ کیا تھا کہ سسٹم تک رسائی مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہے اور فوری بحالی کا امکان نہیں، جس کے باعث جمعرات اور جمعہ کو ہونے والے امتحانات منسوخ کر دیے گئے۔ اسی طرح سپوکین، واشنگٹن کے پبلک اسکولوں نے والدین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فی الحال کسی حساس ڈیٹا کے چوری ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
لیوک کونولی کا کہنا ہے کہ ہیکرز کا دعویٰ ہے کہ اس حملے سے دنیا بھر کے نو ہزار تعلیمی ادارے متاثر ہوئے ہیں اور اربوں نجی پیغامات اور ریکارڈز تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔ ہیکرز نے دھمکی دی ہے کہ وہ ڈیٹا لیک کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاوان کے حوالے سے بات چیت کا عمل جاری ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق تعلیمی ادارے اب ہیکرز کا آسان ہدف بن چکے ہیں کیونکہ یہاں ڈیجیٹل ڈیٹا کا وسیع ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ انسٹرکچر کی جانب سے اس واقعے پر سوشل میڈیا پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم حکام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
