-Advertisement-

انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹنے سے تین کوہ پیما ہلاک

تازہ ترین

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے اسلام آباد میں متوقع

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور ممکنہ طور...
-Advertisement-

انڈونیشیا کے جزیرے ہلماہیرہ میں واقع ماؤنٹ ڈوکونو آتش فشاں کے اچانک پھٹنے سے تین کوہ پیما ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو سنگاپوری شہری اور ایک مقامی فرد شامل ہے۔ یہ افراد آتش فشاں کے ممنوعہ علاقے میں موجود تھے۔

شمالی ہلماہیرہ کے پولیس چیف ایرلکسن پاساریبو نے بتایا کہ آتش فشاں کے پھٹنے سے راکھ کا بادل دس کلومیٹر کی بلندی تک فضا میں بلند ہوا۔ واقعے کے وقت بیس کوہ پیما پہاڑ کی ڈھلوان پر موجود تھے جن میں نو کا تعلق سنگاپور سے تھا۔ مقامی ریسکیو ایجنسی کے سربراہ ایون رامدانی کے مطابق جمعہ کی شام تک سترہ کوہ پیماؤں کو بحفاظت نکال لیا گیا جن میں سات غیر ملکی شامل ہیں، جبکہ ریسکیو آپریشن کو فی الحال روک دیا گیا ہے جو ہفتے کے روز دوبارہ شروع ہوگا۔

ٹور گائیڈ ایلکس جانگو نے بتایا کہ آتش فشاں میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی جا رہی تھی اور انہوں نے مہمانوں کو خبردار کیا تھا کہ پہاڑ کے نچلے حصے میں دباؤ بڑھنے کے باعث بڑا دھماکہ متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آتش فشاں سے مسلسل چٹانیں گر رہی تھیں اور یہ اب تک کا سب سے شدید دھماکہ تھا۔

پولیس چیف نے واضح کیا کہ تینوں لاشیں فی الحال پہاڑ پر موجود ہیں کیونکہ مسلسل آتش فشانی سرگرمیوں کے باعث علاقے کو تاحال غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گائیڈ اور پورٹر کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف ممنوعہ علاقے میں سیاحوں کو لے جانے پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

جیولوجیکل ایجنسی کے مطابق دسمبر سے ہی حکام نے آتش فشاں کے قریبی چار کلومیٹر کے علاقے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بہت سے غیر ملکی سیاح سوشل میڈیا پر مواد بنانے کی غرض سے ان انتباہی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

انڈونیشیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ٹیکٹونک پلیٹوں کے ٹکراؤ کے باعث زلزلوں اور آتش فشاں کے پھٹنے کے واقعات کثرت سے رونما ہوتے ہیں۔ ماؤنٹ ڈوکونو فی الحال انڈونیشیا کے چار سطحی الرٹ سسٹم میں دوسرے درجے پر موجود ہے، اور حکام نے سختی سے تنبیہ کی ہے کہ جب تک صورتحال معمول پر نہیں آتی، کسی کو بھی پہاڑ پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -