-Advertisement-

تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، ایف پی سی سی آئی کا برآمدات بڑھانے پر زور

تازہ ترین

جی ایچ کیو میں معرکہ حق کی یادگار تقریب کا انعقاد، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش

راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں معرکہ حق کی فتح کی یاد میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا...
-Advertisement-

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ملکی تجارتی خسارے میں بیس اعشاریہ اٹھائیس فیصد اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران تجارتی خسارہ بتیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

عاطف اکرام شیخ نے پالیسی سازوں سے فوری رابطے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ بنانے اور معاشی استحکام کے لیے برآمدی شعبے کو ہنگامی بنیادوں پر مراعات دینا ناگزیر ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا اپریل مالی سال چھبیس کے دوران درآمدی بل سات فیصد اضافے سے ستاون اعشاریہ انیس ارب ڈالر رہا۔ اس کے برعکس برآمدات چھ اعشاریہ پچیس فیصد کمی کے بعد پچیس اعشاریہ اکیس ارب ڈالر رہ گئیں۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر نے نشاندہی کی کہ اپریل دو ہزار چھبیس میں ماہانہ تجارتی خسارہ چھیالیس ماہ کی بلند ترین سطح چار اعشاریہ صفر سات ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ اپریل میں برآمدات چودہ اعشاریہ صفر تین فیصد اضافے سے دو اعشاریہ اڑتالیس ارب ڈالر رہیں تاہم درآمدی ادائیگیوں نے اس بہتری کو زائل کر دیا۔

سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگو نے کہا کہ درآمدات میں سات اعشاریہ چھیالیس فیصد سالانہ اور اٹھائیس اعشاریہ اکتالیس فیصد ماہانہ اضافہ ہوا ہے جو چھ اعشاریہ پچپن ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ درآمدات پر عارضی پابندیاں ناکام ہو چکی ہیں اور اب ساختی مسائل کو حل کرنا ہوگا۔

ثاقب فیاض مگو نے مزید کہا کہ سروسز کے شعبے میں تجارتی خسارہ چھ اعشاریہ سات فیصد کمی کے بعد دو اعشاریہ پندرہ ارب ڈالر رہا تاہم مینوفیکچرنگ اور ٹیکسٹائل کے شعبے خطے میں توانائی کی بلند قیمتوں اور سخت مانیٹری پالیسی کے باعث عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے بچنے کے لیے برآمدی نمو پر مبنی معاشی پالیسی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ صنعتی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں کو منطقی بنایا جائے اور پالیسی ریٹ میں کمی کی جائے۔

ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ برآمدی ریبیٹس کی فوری ادائیگی کی جائے، آئی ٹی، انجینئرنگ اور فارماسیوٹیکل جیسے شعبوں کے لیے ٹیکس مراعات دی جائیں اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے آزادانہ تجارتی معاہدے کیے جائیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -