جمہوریہ کانگو کے شمال مشرقی صوبے ایتوری میں مسلح ملیشیا کے حملے کے نتیجے میں کم از کم 69 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ ہلاکت خیز واقعہ اپریل کے اواخر میں پیش آیا، تاہم علاقے میں شدت پسند تنظیم کوڈیکو کے جنگجوؤں کی مسلسل موجودگی کے باعث لاشوں کو نکالنے کا عمل کئی روز تک تاخیر کا شکار رہا۔
سکیورٹی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد 69 بتائی ہے، تاہم مقامی سول پروٹیکشن کے عہدیدار ڈیوڈون لوسا کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 70 سے زائد ہے۔ حملہ آوروں کا تعلق کوڈیکو ملیشیا سے بتایا گیا ہے جو خود کو لیندو برادری کے حقوق کا محافظ قرار دیتی ہے۔
ایتوری کا یہ سونا اگلنے والا صوبہ برسوں سے خونی تنازعات کی زد میں ہے۔ یہاں کوڈیکو کے علاوہ دیگر مسلح گروہ بھی متحرک ہیں، جن میں کنونشن فار دی پاپولر ریوولیوشن اور الائیڈ ڈیموکریٹک فورسز شامل ہیں۔ اے ڈی ایف کے جنگجوؤں نے حال ہی میں دو روزہ کارروائیوں کے دوران 36 افراد کو قتل کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مشن مونسکو نے مشرقی کانگو میں شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی لہر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایتوری، نارتھ کیوو اور ساؤتھ کیوو کے صوبوں میں حالیہ دنوں کے دوران درجنوں شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
کانگو کے معدنیات سے مالا مال مشرقی حصے میں گزشتہ تین دہائیوں سے مختلف مسلح گروہوں، ملیشیا اور سرکاری فوج کے درمیان تصادم جاری ہے، جس نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔
