راولپنڈی میں سگنل فری کوریڈور کا منصوبہ ریکارڈ 179 دنوں میں مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ اس کی ڈیڈ لائن 190 دن مقرر کی گئی تھی۔ یہ منصوبہ پاکستان میں شہری بنیادی ڈھانچے کی تیز ترین ترقی کی ایک مثال بن گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت ٹریفک کے بہاؤ کو رواں رکھنے کے لیے پانچ انڈر پاسز، دو اوور ہیڈ پل اور ایک پیدل چلنے والوں کا پل تعمیر کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے راولپنڈی میں مارکہ حق سکوائر کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ ہی کچری چوک کو تاریخی اہمیت کے پیش نظر نیا نام دے دیا گیا ہے۔ اس موقع پر ایک یادگاری تختی کی نقاب کشائی بھی کی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے سگنل فری کوریڈور کے مختلف مقامات کا دورہ کیا، جس میں اوور ہیڈ پل اور سڑکوں کی توسیع کے کاموں کا جائزہ لیا گیا۔ اینکیسی چوک سے جی پی او چوک تک جاری کاموں کے دوران ملک صہیب احمد بھرتھ نے وزیر اعلیٰ کو منصوبے کی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔
حکام کے مطابق یہ کوریڈور شہر کے مصروف ترین علاقوں سے گزرتا ہے اور اس سے روزانہ دو لاکھ سے زائد گاڑیوں کو آمدورفت میں سہولت ملے گی۔ مارکہ حق سکوائر پر شہر کا پہلا جدید پیدل چلنے والوں کا پل بھی تعمیر کیا گیا ہے۔
مجموعی منصوبے کے تحت راوت سے موٹر وے تک 25 کلومیٹر طویل سگنل فری کوریڈور تعمیر کیا جا رہا ہے، جس میں مجموعی طور پر نو انڈر پاسز اور تین فلائی اوورز شامل ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ منصوبے کے دو مراحل مکمل ہو چکے ہیں جبکہ تیسرا مرحلہ تکمیل کے قریب ہے۔ مزید برآں ریس کورس، چیئرنگ کراس اور اے ایف آئی سی چوک پر بھی انڈر پاسز کی تعمیر منصوبہ بندی میں شامل ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ یہ منصوبہ راولپنڈی کے ٹریفک نظام اور شہری نقل و حرکت میں نمایاں تبدیلی لائے گا، جس سے شہریوں کو سفر کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
