قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا خلیجی خطے میں جاری بحران کو مزید گہرا کر دے گا۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق اتوار کو ہونے والی اس بات چیت میں فریقین نے خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا۔ قطری وزیراعظم نے واضح کیا کہ جہاز رانی کی آزادی ایک بنیادی اصول ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا علاقائی ممالک کے مفادات کو شدید خطرات سے دوچار کرے گا۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن نے زور دیا کہ تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی خاطر ثالثی کی کوششوں کا مثبت جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام کے مفادات کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔
اس سے قبل 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ جس کے ردعمل میں تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔
اگرچہ 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں فائر بندی کا معاہدہ طے پایا تھا تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی پائیدار حل تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کر دی گئی تھی تاکہ سفارت کاری کے ذریعے مستقل امن کا راستہ تلاش کیا جا سکے۔
