ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز یا اس کے اطراف میں فرانسیسی اور برطانوی بحری جہازوں کی موجودگی پر تہران کی مسلح افواج فوری اور فیصلہ کن ردعمل دیں گی۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی کے نام پر غیر ملکی بحری اثاثوں کی تعیناتی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق فرانس نے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈیگال کو بحیرہ احمر اور خلیج عدن بھیجنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد برطانیہ کے ساتھ مل کر مشترکہ مشن کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ برطانیہ نے بھی فرانس کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے ایک جنگی جہاز بحیرہ احمر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے ان غیر علاقائی تباہ کن بحری جہازوں کی تعیناتی کو بحران میں اضافے اور ایک اہم آبی گزرگاہ کو عسکری رنگ دینے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بحری تحفظ کا قیام فوجی طاقت کے مظاہرے سے ممکن نہیں اور جو ممالک امریکی و اسرائیلی جارحیت کی حمایت کر رہے ہیں وہ خود مسئلے کا حصہ ہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جنگ ہو یا امن، آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی صرف اسلامی جمہوریہ ایران ہی قائم کر سکتا ہے اور تہران کسی بھی ملک کو اس معاملے میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کے غیر قانونی اقدامات میں تعاون کرنے والے کسی بھی ملک کے بحری جہازوں کو ایرانی افواج کے فوری جوابی ایکشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تہران نے ان ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صورتحال کو مزید پیچیدہ نہ بنائیں۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، جس کے نتیجے میں تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ عالمی سطح پر اس اہم آبی گزرگاہ کو کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم ایران کے افزودہ یورینیم کا معاملہ اب بھی ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
