شان سٹرک لینڈ نے نیو جرسی کے پروڈنشل سینٹر میں منعقدہ یو ایف سی 328 کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں خمزت چیمائیف کو سپلٹ ڈیسیژن سے شکست دے کر ایک بار پھر 185 پاؤنڈ مڈل ویٹ چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ اس مقابلے کو دیکھنے کے لیے 17 ہزار 783 شائقین اسٹیڈیم میں موجود تھے۔
میچ کے فیصلے کے لیے دو ججوں نے اسکور 47-48 سٹرک لینڈ کے حق میں دیا جبکہ ایک جج نے خمزت چیمائیف کو فاتح قرار دیا۔ یہ سٹرک لینڈ کا مڈل ویٹ چیمپئن کے طور پر دوسرا دور ہے۔
مقابلے سے قبل دونوں فائٹرز کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا اور سٹرک لینڈ کی جانب سے چیمائیف کے خلاف متنازع بیانات کے باعث انتظامیہ نے ہوٹلز اور ایونٹ کے مقام پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے تھے۔ تاہم رنگ میں اترنے کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کیا۔
جیت کے بعد 35 سالہ سٹرک لینڈ نے اپنے جارحانہ بیانات پر شائقین سے معافی مانگی اور اعتراف کیا کہ انہوں نے میچ کو ہائپ دینے کے لیے حد سے زیادہ سخت الفاظ کا استعمال کیا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کرنے والے خمزت چیمائیف کی 16 فتوحات پر مشتمل ناقابل شکست سلسلہ اس شکست کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔
ایونٹ کے کو-مین ایونٹ میں جوشوا وان نے تاتسورو ٹائرا کو پانچویں راؤنڈ میں شکست دے کر اپنا 125 پاؤنڈ فلائی ویٹ ٹائٹل کامیابی سے دفاع کیا۔ یہ یو ایف سی کی تاریخ کا پہلا ٹائٹل مقابلہ تھا جس میں حصہ لینے والے دونوں کھلاڑی 2000 کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے۔
دیگر مقابلوں میں شان بریڈی نے جواکین بکلی کو جبکہ الیگزینڈر وولکوف نے والڈو کورٹیز کو متفقہ فیصلے سے شکست دی۔
ایونٹ کا جذباتی لمحہ 42 سالہ تجربہ کار فائٹر جم ملر کی واپسی تھی، جو اپنے بیٹے کی کینسر سے جنگ کے باعث 13 ماہ تک رنگ سے دور رہے تھے۔ ملر نے جیریڈ گورڈن کو پہلے ہی راؤنڈ میں سبمشن کے ذریعے شکست دی۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان کا بیٹا اب کینسر سے پاک ہے اور اس نے زندگی کی مشکل ترین لڑائی جیتی ہے۔
یہ ایونٹ 14 جون کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ اور ملک کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والے یو ایف سی شو سے قبل آخری بڑا ایونٹ تھا۔
