نیپال میں کوہ پیمائی کے موسم بہار کے دوران افسوسناک حادثات کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ماؤنٹ مکالو پر برفانی تودہ گرنے سے امریکی کوہ پیما ہلاک ہو گئیں۔ حکام کے مطابق 53 سالہ شیلی جوہانسن پیر کے روز دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران حادثے کا شکار ہوئیں۔
ایکسپیڈیشن ہمالیہ کے منیجنگ ڈائریکٹر نبین ٹریٹل نے بتایا کہ شیلی جوہانسن کیمپ 3 کے قریب برفانی تودے کی زد میں آئیں۔ وہ 27 ہزار 838 فٹ بلند چوٹی سر کر چکی تھیں اور واپسی پر 23 ہزار 600 فٹ کی بلندی پر موجود تھیں۔
مقتولہ امریکی ادارے ڈیش ایڈونچرز کی شریک بانی تھیں۔ وہ اپنے ساتھی ڈیوڈ ایشلے اور دو نیپالی گائیڈز کے ہمراہ مہم جوئی کر رہی تھیں۔ ڈیوڈ ایشلے نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں شیلی کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت شخصیت تھیں جنہوں نے اپنی زندگی جذبے کے ساتھ گزاری۔
شیلی جوہانسن کی میت پیر کے روز ہی کھٹمنڈو کے ہسپتال منتقل کر دی گئی تھی۔ رواں سیزن کے دوران ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں ہلاکتوں کی یہ تازہ ترین واردات ہے۔ اس سے قبل ایک 38 سالہ چیک کوہ پیما ڈیوڈ روبینک اور تین نیپالی گائیڈز بھی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
ماؤنٹ مکالو اپنی مخصوص شکل، شدید موسم اور دشوار گزار راستوں کے باعث کوہ پیمائی کے لیے انتہائی تکنیکی چوٹی سمجھی جاتی ہے۔ نیپال میں موسم بہار کے دوران سینکڑوں کوہ پیما پہنچتے ہیں، اور اس سال حکام نے 30 پہاڑوں کے لیے ایک ہزار سے زائد پرمٹ جاری کیے ہیں، جن میں مکالو کے لیے 72 جبکہ ماؤنٹ ایورسٹ کے لیے ریکارڈ 492 پرمٹ شامل ہیں۔
